ٹینس کھیلنے پر لوگ کہتے تھے یہ کالی ہوجائے گی، کوئی شادی نہیں کرے گا: ثانیہ
بھارت میں خواتین کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن انڈیا کی جانب سے بنائے گئے نغمے ’مجھے حق ہے‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے موقع پر ثانیہ مرزا نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ثانیہ مرزا نے بتایا کہ انہوں نے 6 برس کی عمر میں ٹینس کھیلنا شروع کیا تھا، یہ وہ وقت تھا جب یہ بھی سننے کو نہیں ملتا تھا کہ حیدرآباد میں کوئی لڑکی ٹینس کھیلتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایسے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں بہت سے کرکٹرز ہیں، یہاں تک کے ان کے والد بھی کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔
تقریب میں ثانیہ مرزا نے اپنے کیریئر کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہوں نے لوگوں اور رشتے داروں کی تنقید کا سامنا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی میں ان کے والدین کا اہم کردار ہے جنہوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔
ثانیہ نے بتایا کہ جب میرے والدین نے میرے انکل آنٹی کو میرے ٹینس کھیلنے کا بتایا تو ان کا کہنا تھا، ’ یہ کالی ہوجائے گی، پھر دیکھنا کوئی اس سے شادی نہیں کرے گا‘۔


No comments: