چکوال

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» » ”پاکستانی پورے بیلنس کے مزے لیتے رہیں گے کیونکہ۔۔۔“ موبائل بیلنس پر عائد ٹیکس کے خاتمے کے بعد پاکستانیوں کیلئے سب سے بڑی خوشخبری آ گئی، ہر کوئی خوشی سے نہال ہو گیا

 سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے کے باعث ایک طویل عرصے کے بعد پاکستانیوں موبائل لوڈ کروانے پر پورا بیلنس ملنا شروع ہوا کیونکہ اس سے پہلے 100 روپے کا کارڈ لوڈ کرنے پر تقریباً 40 روپے ٹیکسوں کی مد میں کاٹ لئے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔فردوس عاشق اعوان نے ان ”چاچاجی“ پر ظلم کے ایسے پہاڑ توڑ دئیے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، گلاب جامن دیکھ کر گلاب سا منہ کھولا تو اگلے ہی لمحے ارمانوں کا قتل ہو گیا، دیکھ کر آپ کے پیٹ میں ہنسی سے مروڑ اٹھنے لگیں گے

ضرور پڑھیں:چیف جسٹس کو کوئی حق نہیں کہ کھلی عدالت میں ججز کی تضحیک کریں ،مذاق بنا لیا ہے کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا اس کی تضحیک شروع کر دیں: جسٹس شوکت عزیز صدیقی
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گزشتہ دو ہفتے سے پاکستانی پورے بیلنس کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اب خوشخبری یہ ہے کہ پاکستانی تب تک پورے بیلنس کے مزے لوٹتے رہیں گے جب تک سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی نیا حکم جاری نہیں ہو جاتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیس کی سماعت اگلے ہفتے ہونی ہے جس دوران کوئی نیا حکم جاری کیا جا سکتا ہے تاہم تب تک پاکستانیوں کو پورا بیلنس ملتا رہا اور اگر سپریم کورٹ نے کوئی حکم جاری کئے بغیر یا ٹیکسوں کا نیا نظام منظور کئے بغیر سماعت ملتوی کر دی تو پاکستانیوں کو مزید کچھ عرصے کیلئے پورا بیلنس ملتا رہے گا۔

ضرور پڑھیں:صدیق الفاروق نے چیف جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستانی موبائل فون صارفین صرف کارڈ لوڈ کرنے پر ہی 25 فیصد رقم ٹیکس کی مد میں ادا کرتے تھے اور پھر 18.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس بھی لاگو ہوتا تھا جس کے باعث 100 روپے کا کارڈ لوڈ کرنے پر تقریباً 40 روپے کے قریب کٹوتی ہوتی تھی

نوید سرورملک chakwal daily news

نوید سرورملک کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, چکوال ڈیلی نیوز(رجسٹرڈ) ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز چکوال ڈیلی نیوز(رجسٹرڈ) کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں